Handmade quality · Free shipping over $75 · Explore the atelier

Safarnama Akhrat سفرنامہ آخرت Molana Mawdudi آپ نے اپنی شاعری میں

SKU: 44910938801

4.8
USD190.00 USD226.00

Pay in 4 interest-free payments of $47.50 Learn more

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 7 - Aug 12

Description

آپ نے اپنی شاعری میں جہاں ہر موضوع سخن کو بیان کیا ہے وہاں پر محمد و آل محمد جیسی عظیم ہستیوں پر گفتگو بھی کی ہے۔ آپ کو اہل بیتِ رسول سے عشق محبت و مودت تھا۔ آپ نے اپنے کلام و بیان میں آل اطہار کو مرکزی نقطہ قرار دیا ہے۔ ان کریم اور پاکیزہ ہستیوں کو اپنی زندگی کا محور و مرکز قرار دیا ہے۔

-لڑنے جگھڑنے کے لیۓ اصول طے کریں

حضرت ابو ایوب انصاری ؓ  ایک مہتم بالشان صحابی رسول ہیں۔ آپ کو بدری صحابی ہونے کے ساتھ حضور نبی کریمﷺ کی میزبانی کا بھی شرف حاصل ہے۔ آپ رسول اللہﷺ کے ساتھ تمام غزوات میں شریک رہے۔ محترم طالب الہاشمی نے سیر الصحابہ اور دیگر اکابر ملت کے سوانح جمع کرنے کا جو بیڑہ اٹھایا ہے زیر تبصرہ کتاب بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے جس میں حضرت ابو ایوب انصاری ؓ  کی سیرت کو قلمبند کیا گیا ہے ۔ مصنف نے کوشش کی ہے کہ کتاب میں آپ ؓکی زندگی سے متعلق کوئی بھی واقعہ چھوٹنے نہ پائے۔ حضرت ابوایوب انصاری ؓ  کے مکمل سوانح حیات پیش کرنے کے لیے مدینہ منورہ اور انصار کی اجمالی تاریخ، سرور کونینﷺ کی سیرت پاک کی کچھ جھلکیاں اورتاریخ اسلام کے بعض ایسے واقعات جن کا حضرت ابو ایوب  ؓ  سے کچھ نہ کچھ تعلق رہا ہے، بھی درج کر دئیے گئے ہیں۔

سید مودودیؒ کتاب کے آخر میں رقم طراز ہیں: ”ہم نے ایک ایک دلیل کا تفصیلی جائزہ لے کر جو بحث کی ہے اسے پڑھ کر ہر صاحب علم آدمی خود یہ رائے قائم کر سکتا ہے کہ ان دلائل میں کتنا وزن ہے اور ان کے مقابلے میں سنت کے ماخذ قانون اور احادیث کے قابل استناد ہونے پر جو دلیلیں ہم نے قائم کی ہیں وہ کس حد تک وزنی ہیں۔ ہم خاص طور پر خود فاضل جج سے اور مغربی پاکستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور ان کے رفقا سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ پورے غور کے ساتھ ہماری اس تنقید کو ملاحظہ فرمائیں اور اگر ان کی بے لاگ رائے میں، جیسی کہ ایک عدالت عالیہ کے فاضل ججوں کے رائے بے لاک ہونی چاہیے، یہ تنقید فی الواقع مضبوط دلائل پر مبنی ہو تو وہ قانون کے مطابق کوئی ایسی تدبیر عمل میں لائیں جس سے یہ فیصلہ آئیندہ کے لیے نظیر نہ بن سکے۔ عدالتوں کا وقار ہر ملک کے نظام عدل و انصاف کی جان ہوتا ہے اور بہت بڑی حد تک اسی پر ایک مملکت کے استحکام کا انحصار ہوتا ہے۔ اس وقار کے لیے کوئی چیز اس سے بڑھ کر نقصان دہ نہیں ہے کہ ملک کی بلند ترین عدالتوں کے فیصلے علمی حیثیت سے کمزور دلائل اور ناکافی معلومات پر مشتمل ہوں۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ جب ایمان دارانہ تنقید سے ایسی کسی غلطی کی نشان دہی ہو جائے تو اولین فرصت میں خود حاکمان عدالت ہی اس کی تلافی کی طرف توجہ فرمائیں۔“

ہوا میں انسان اڑیں گے

Safarnama Akhrat سفرنامہ آخرت Molana Mawdudi آپ نے اپنی شاعری میں:

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products